Ijazat-e-Amliyat



یہ ایک بہت اہم موضع ہے جس پر کچھ لکھنا بہت ضروری ہو گیا ہے کیونکہ آج کل کے عملیات کی دنیا کے شوقین حضرات بغیر استاد کی تعلیم و اجازت عملیات ، تعویذات کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کے نتیجہ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے   انکی نظر میں اجازت کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہوتی اسی لیئے جو بغیر استاد کی اجازت کے عملیات کرتے ہیں وہ ہمیشہ ناکام رہتے ہیں اگر استاد کی اجازت ہونا ضروری نہ ہوتا تو آج مارکیٹ سے کوئی بھی عملیات کی کتاب خرید کر اس میں سے کوئی بھی عمل کر کے عامل بن جاتا ایسا نہیں ہوتا نا کبھی ایسے ہو سکتا ہے جب تک آپ دنیاوی تعلیم بغیر استاد کی راہنمائی کے نہیں سیکھ سکتے تو یہ روحانی تعلیم بغیر استاد کےکیسے سیکھ سکتے ہیں۔

اگر کسی کو استاد نہیں ملتا تو مایوس نہ ہوں اگر آپ کو واقعی عملیات کی دنیا میں اپنا قدم رکھنا ہے تو آپ کو تلاش کرنا ہوگا اورآپ کی لگن سچی ہوئی تو ضرور ایک دن آپ کو استاد مل جائے گا پھر آپ کا ہرعمل کامیاب ہوگا کبھی بھی یاد رکھیں بغیر اجازت کوئی بھی عمل مت کریں پہلے اجازت لیں پھر عمل کریں اسی میں آپ کی بھلائی ہے عملیات کی دنیا بہت پچیدہ ہوتی ہے اس میں رجعت کا خطرہ ہوتا ہے یعنی اگر آپ عمل کے دوران پرہیز کا خیال نہیں رکھتے یا پھر آپ کو حصار کا علم نہیں تو بہت سخت رجعت ہو سکتی ہے جسکا توڑ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اس میں پاگل ہونا یا بیمار ہو جانا بہت عام بات ہے اسی لیئے خود سے بغیر اجازت کے کوئی عمل یا تعویذ کبھی بھی ہرگز مت کریں۔

ہم سے جب لوگ عملیات میں ناکامی کا رونا روتے ہیں تو ہم یہی پوچھتے ہیں کیا آپ نے کسی استاد کی اجازت سے عمل کیا ہے؟ تو جواب نفی میں ہوتا ہے اصل بات کوئی نہیں بتائے گا بس ایسے ہی مایوس ہو جاتا ہے کہ میں نے اتنا عرصئہ سے عملیات کیئے لیکن کامیابی نہیں ہوئی یہ سب جھوٹ ہوتا ہے جبکہ اپنی ناکامی کی اصل وجہ نہیں بتائے گا کہ استاد کی اجازت کے بغیر عملیات کیئے تو خود سے استاد بننے کی کوشش کریں گے تو ناکامی ہی ہوگی اب آپ کوخود فیصلہ کرنا ہوگا۔

بات وہی کہ کیا آپ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا آپ استقبال کی کیفیت میں ہیں یا آپ ایک قدم پیچھے ہو کر موقع اور وقت کے گزر جانے کے انتظار میں ہیں۔
ایک بات یاد رکھیں،
فطرت سب سے بڑی اُستاد اورمرشد ہے۔
باقی سب اس کے بعد ہے۔
اللہ نے انسان کو فطرت پر پیدا کیا ہے۔

سو ایک اُستاد ایک مرشد ہمیشہ اس کے اپنے اندر بھی ہوتا ہے۔ جس کے بارے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ کبھی نہیں مرتا اور اس بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ کبھی بھی زندہ نہیں ہوتا۔ یہی ایک کشمکش ہے جو اصل مسئلہ پیدا کرتی ہے۔

اگر تو یہ بات سمجھ لی کہ اُستاد یا مرشد ایک محدود مظہریت نہیں رکھتے بلکہ اِن کا ایک وسیع تناظر ہے تو معاملہ آسان ہو گیا ہے اور سوالوں کا جواب بھی آ گیا ہے۔

اس کو ایک اور تناظر میں دیکھیں؛

آپ آج جو کچھ لکھ پڑھ، بول سوچ رہے ہیں، کیا یہ آپ نے از خود کیا ہے؟
کیا بولنا آپ نے ماں سے یا باپ سے یا کسی اور انسان سے نہیں سیکھا؟ اس کے بعد ضرور اس میں مہارت یا غیر معمولی مہارت میں آپ کا عمل دخل ہو سکتا ہے لیکن اس معاملے میں آپ نے نہیں مانتے ایک اُستاد کسی نہ کسی شکل میں ہمہ وقت موجود تھا۔

کیا پڑھنا لکھا کیا آپ کو خود آ گیا؟ ہاں جس اُستاد نے آپ کو پرائمری پڑھائی تھی آپ اس سے بہت آگے نکل گئے، آپ نے پی ایچ ڈی کر لی تو کیا پرائمری کے اُستاد کی اُستادی ختم ہو گئی، بے قدری ہو گئی۔

بعض جو صرف کتاب سے سیکھنے پر یقین رکھتے ہیں وہ مکمل غلط نہیں، ہاں کجی کا شکار ہیں۔ پہلے الف بے کسی اُستاد کسی مرشد سے سیکھ لیں تاکہ ایک بنیاد بن جائے پھر اس پر عمارت بھی تعمیر ہو جائے گی کتاب کی ایک اہمیت بلکہ بہت بڑی اہمیت ہے لیکن الہامی کتابوں کو چھوڑ کر ہر کتاب کا مصنف تو ایک انسان ہی ہوتا ہے اور پھر کتاب کوئی بھی بہترین ہو سکتی ہے کمال ہو سکتی ہے‘ جامعیت کا مظہر ہو سکتی ہے لیکن اس میں تین اہم باتیں ہوتی ہیں پہلی یہ صرف امر زیر بحث کے ایک خاص حصہ تک محدود ہوتی ہے اور دوسرا فرد کے ذاتی خیالات اور تجربات کتاب کا حصہ ہوتے ہیں اور تیسرا کتاب پڑھنے سے پیدا ہونے والے سوالات کا قاری کو جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔

سوکتاب ایک راہنما تو ہو سکتی ہے لیکن سو فی صد ذہنی و قلبی طور پر مطمئن کردینے والی نہیں ہو سکتی ایک اُستاد‘ پیر یا مرشد جس طرح سوالات کو ہی ختم کر دیتا ہے اس درجہ کو کتاب نہیں پا سکتی گو دونوں راہنما ہیں لیکن اِن کی راہنمائی میں باہم پہاڑ سے زیادہ فرق ہے کتاب سے فائدہ اٹھانے کے لیے پہلے ایک اُستاد بہرحال چاہیے ہوتا ہے۔

اب کئی خوبصورت ذہن کے حامل سوچ رہے ہوں گے کہ اُستاد اور مرشد تو بارہا آیا، روحانیت کا ذکر تو کہیں آیا نہیں تو کیا روحانیت آپ کی سوچ اور آپ کے الفاظ سے الگ کوئی چیز ہے۔

  میں نے کہا فطرت سب سے بڑی اُستاد ہے سو روحانیت تو آپ کے اندر ہر وقت ہے صرف اس کے دریافت کا مسئلہ ہے، اس کے ظہور کا معاملہ ہے‘ اس کے آپ پر آشکار ہونے کا انتظار ہے بات وہی ہے الف بے‘ چاہے کسی علم کی ہواس کے لیے ایک دفعہ تو ایک در کی ضرورت ہوتی ہے ہاں اُس در سے پانے کے بعد آپ کی کاوش اور آپ کا حصہ آپ کو کیا دیتا ہے یہ ہر ایک کے لیے فرق ہے ایک اُستاد کے کئی شاگرد ہوتے ہیں، لیکن سب اُس کے خلیفہ کا درجہ نہیں پاتے اور کبھی اس نظام کو آپ نے دیکھا ہو تو وہ مرید جو خلیفہ کا درجہ نہیں پاتے، امر روحانیت میںدرجہ اولیٰ بعض اوقات اُن کا ہوتا ہے جو مرشدسے دستار خلافت نہیں پاتے لیکن دستار قلب پاتے ہیں۔

بات کسی اور طرف چلی گئی، واپس در پر آتے ہوئے ختم کرتے ہیں کہ منزل کوئی بھی ہو اس تک پہنچے کے لیے ایک در ایک راہبر جس کو کوئی بھی نام دے دیں کی اہمیت سے فرار حاصل نہیں کیا جا سکتا در سے ملنا نہ ملنا، کم ملنا زیادہ ملنا یہ الگ بحث ہے صرف کتاب ہی سب کچھ نہیں ہوتی یہاں تک کہ اللہ نے اپنی الہامی کتاب قرآن حکیم کی عملی تشریح کے لیے ایک خوبصورت راستہ اپنے پیغامبر اور نبی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں ہمارے درمیان موجود کیا۔ 

No comments:

Post a Comment

>